“Love has rendered me utterly useless, O Ghalib; else I, too, was once a man of worth.”
عشق نے مجھے بے کار اور نکما بنا دیا ہے غالب، ورنہ کبھی میں بھی ایک کام کا اور کارآمد انسان تھا۔
غالبؔ اس شعر میں بڑی شوخی اور خودداری کے ساتھ فرماتے ہیں کہ عشق نے انہیں دنیاوی کام کاج سے بالکل بےنیاز اور نکھٹو بنا دیا، حالانکہ وہ بھی کبھی بڑے باصلاحیت اور کارآمد انسان تھے۔ بظاہر یہ ایک مسکراتی ہوئی شکایت ہے، مگر اس کی تہہ میں یہ حقیقت چھپی ہے کہ محبت انسان کی ساری توانائیاں چھین کر اسے اپنی ہی دنیا میں قید کر لیتی ہے۔ یہ دراصل کسی ناکامی کا پچھتاوا نہیں، بلکہ عشق میں خود کو فخر سے ہار بیٹھنے کا دلکش اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
