हमें फिर उन से उमीद और उन्हें हमारी क़द्र
हमारी बात ही पूछें न वो तो क्यूँकर हो
“We still hold hope for them, that they our worth acknowledge;If they don't even inquire of us, how can it then come forth?”
— مرزا غالب
معنی
ہمیں اب بھی ان سے امید ہے اور یہ بھی کہ وہ ہماری قدر کریں۔ لیکن اگر وہ ہماری بات ہی نہ پوچھیں تو یہ سب کیسے ممکن ہو گا؟
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
