غزل
دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
یہ غزل بتاتی ہے کہ محبوب کو بھی، تنہائی دینے کے بعد، آخرکار وہی تنہائی محسوس ہوتی ہے۔ یہ تمام تخلیق کی فانی نوعیت اور جس متضاد طریقے سے ناانصافی ہمدردی پیدا کر سکتی ہے، اس کی تحقیق کرتی ہے۔ یہ اشعار اجتماعی طور پر وسیع تکلیف اور وجود کے عارضی غم کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल लगा कर लग गया उन को भी तन्हा बैठना
बारे अपनी बेकसी की हम ने पाई दाद याँ
دل لگانے کے بعد انہیں بھی اکیلے بیٹھنا آ گیا۔ کم از کم، یہاں ہماری بے کسی کو داد مل گئی۔
2
हैं ज़वाल-आमादा अज्ज़ा आफ़रीनश के तमाम
महर-ए-गर्दूं है चराग़-ए-रहगुज़ार-ए-बाद याँ
آفرینش کے تمام اجزاء زوال پذیر ہیں۔ یہاں تک کہ آسمان کا سورج بھی ہوا کے راستے کا ایک چراغ ہے۔
3
है तरह्हुम-आफ़रीं आराइश-ए-बे-दाद याँ
अश्क-ए-चश्म-ए-दाम है हर दाना-ए-सय्याद याँ
یہاں بے انصافی کی نمائش ترس پیدا کرتی ہے۔ شکاری کا ہر دانہ جال کی آنکھ کا آنسو ہے۔
4
है गुदाज़-ए-मोम अंदाज़-ए-चकीदन-हा-ए-ख़ूँ
नीश-ए-ज़ंबूर-ए-असल है नश्तर-ए-फ़स्साद याँ
خون کے ٹپکنے کا انداز پگھلے ہوئے موم کی طرح ہے۔ یہاں فصّاد کا نشتر شہد کی مکھی کا ڈنک ہے۔
5
ना-गवारा है हमें एहसान-ए-साहब-दाैलताँ
है ज़र-ए-गुल भी नज़र में जौहर-ए-फ़ौलाद याँ
ہمیں دولتمندوں کے احسان ناگوار ہیں۔ ہماری نظر میں پھول کا سونا بھی یہاں فولاد کا جوہر ہے۔
6
जुम्बिश-ए-दिल से हुए हैं उक़्दा-हा-ए-कार वा
कम-तरीं मज़दूर-ए-संगीं-दस्त है फ़रहाद याँ
دل کی جنبش سے ہی کام کے تمام عقدے کھل گئے ہیں۔ یہاں فرہاد تو بس ایک ادنیٰ پتھر توڑنے والا مزدور ہے۔
7
क़तरा-हा-ए-ख़ून-ए-बिस्मिल ज़ेब-ए-दामाँ हैं 'असद'
है तमाशा करदनी गुल-चीनी-ए-जल्लाद याँ
اسد، قربان کیے گئے کے خون کے قطرے دامن کو سجا رہے ہیں۔ یہاں جلاد کا پھول چننا ایک قابل دید تماشا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
