मय-कदा गर चश्म-ए-मस्त-ए-नाज़ से पावे शिकस्त
मू-ए-शीशा दीदा-ए-साग़र की मिज़्गानी करे
“Should the wine-house by her proud, intoxicating gaze be overthrown,The bottle's fragile threads will grace the wine-cup's 'eye' as lashes grown.”
— مرزا غالب
معنی
اگر مے خانہ اس کی مغرور، نشیلی آنکھ سے شکست کھا جائے، تو بوتل کے باریک ریشے (بال) شراب کے ساغر کی آنکھ کی پلکیں بن جائیں گے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
