ख़त्त-ए-आरिज़ से लिखा है ज़ुल्फ़ को उल्फ़त ने 'अह्द
यक-क़लम मंज़ूर है जो कुछ परेशानी करे
“Love, by the cheek's soft line, to tresses has a covenant writ,Whatever disarray they bring, entirely it deems fit.”
— مرزا غالب
معنی
عشق نے گال کی لکیر سے زلفوں کے ساتھ ایک عہد نامہ لکھا ہے۔ زلفیں جو بھی پریشانی پیدا کریں، وہ مکمل طور پر منظور ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
