غزل
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
یہ غزل انسانی وجود کے تضاد کو دلسوزی سے بیان کرتی ہے، جہاں بے اعتدالیاں اپنی شناخت اور اہمیت کے ضائع ہونے کا باعث بنتی ہیں۔ یہ آزادی کا تجربہ کرنے سے پہلے ہی زندگی کے جالوں میں پھنس جانے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، جس سے خود فنا کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بالآخر، یہ عشق کی سختیوں کو برداشت کرنے کے سفر کو پیش کرتی ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کو سراپا غم میں بدل دیتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
बे-ए'तिदालियों से सुबुक सब में हम हुए
जितने ज़ियादा हो गए उतने ही कम हुए
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے ہم سب کی نظروں میں ہلکے ہو گئے۔ ہم جتنا زیادہ ہوئے، اتنا ہی کم (غیر اہم) ہو گئے۔
2
पिन्हाँ था दाम सख़्त क़रीब आशियान के
उड़ने न पाए थे कि गिरफ़्तार हम हुए
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
آشیانے کے بالکل قریب ایک سخت جال چھپا ہوا تھا۔ ہم ابھی اُڑ بھی نہیں پائے تھے کہ گرفتار کر لیے گئے۔
3
हस्ती हमारी अपनी फ़ना पर दलील है
याँ तक मिटे कि आप हम अपनी क़सम हुए
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
ہماری ہستی ہی ہماری اپنی فنا کا ثبوت ہے۔ ہم اس قدر مٹ گئے کہ ہم خود اپنی ہی قسم بن گئے۔
4
सख़्ती कशान-ए-इश्क़ की पूछे है क्या ख़बर
वो लोग रफ़्ता रफ़्ता सरापा अलम हुए
سختی کشان عشق کی پوچھے ہے کیا خبر
وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
عشق کی سختیاں سہنے والوں کا حال کیا پوچھتے ہو؟ وہ لوگ آہستہ آہستہ مکمل طور پر غم میں بدل گئے۔
5
तेरी वफ़ा से क्या हो तलाफ़ी कि दहर में
तेरे सिवा भी हम पे बहुत से सितम हुए
تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
تمہاری وفا سے کیا تلافی ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا میں تمہارے علاوہ بھی ہم پر بہت سے ستم ہوئے ہیں۔
6
लिखते रहे जुनूँ की हिकायात-ए-ख़ूँ-चकाँ
हर-चंद इस में हाथ हमारे क़लम हुए
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
ہم جنون کی خون ٹپکاتی کہانیاں لکھتے رہے۔ اگرچہ اس عمل میں ہمارے ہاتھ قلم ہو گئے۔
7
अल्लाह रे तेरी तुंदी-ए-ख़ू जिस के बीम से
अजज़ा-ए-नाला दिल में मिरे रिज़्क़-ए-हम हुए
اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سے
اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
اللہ رے تیرے مزاج کی وہ تیزی، جس کے خوف سے میرے دل میں میرے نالے کے اجزاء غم کا رزق بن گئے۔
8
अहल-ए-हवस की फ़त्ह है तर्क-ए-नबर्द-ए-इश्क़
जो पाँव उठ गए वही उन के अलम हुए
اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشق
جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
اہل ہوس کے لیے عشق کی جنگ چھوڑ دینا ہی ان کی فتح ہے۔ جو قدم (جنگ سے) ہٹ گئے، وہی ان کے پرچم بن گئے۔
9
नाले अदम में चंद हमारे सुपुर्द थे
जो वाँ न खिंच सके सो वो याँ आ के दम हुए
نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
کچھ نوحے عدم میں ہمارے سپرد کیے گئے تھے۔ جو نوحے وہاں سے نہیں نکل سکے، وہ یہاں آ کر ختم ہو گئے تھے۔
10
छोड़ी 'असद' न हम ने गदाई में दिल-लगी
साइल हुए तो आशिक़-ए-अहल-ए-करम हुए
چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
اسد، ہم نے فقیری میں بھی اپنے دل کی لگن نہیں چھوڑی۔ جب ہم سوالی بنے تو ہم سخی اور اہل کرم لوگوں کے عاشق ہو گئے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
