Sukhan AI
غزل

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers· radif: हुए

یہ غزل انسانی وجود کے تضاد کو دلسوزی سے بیان کرتی ہے، جہاں بے اعتدالیاں اپنی شناخت اور اہمیت کے ضائع ہونے کا باعث بنتی ہیں۔ یہ آزادی کا تجربہ کرنے سے پہلے ہی زندگی کے جالوں میں پھنس جانے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، جس سے خود فنا کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بالآخر، یہ عشق کی سختیوں کو برداشت کرنے کے سفر کو پیش کرتی ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کو سراپا غم میں بدل دیتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बे-ए'तिदालियों से सुबुक सब में हम हुए जितने ज़ियादा हो गए उतने ही कम हुए
اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے ہم سب کی نظروں میں ہلکے ہو گئے۔ ہم جتنا زیادہ ہوئے، اتنا ہی کم (غیر اہم) ہو گئے۔
2
पिन्हाँ था दाम सख़्त क़रीब आशियान के उड़ने पाए थे कि गिरफ़्तार हम हुए
آشیانے کے بالکل قریب ایک سخت جال چھپا ہوا تھا۔ ہم ابھی اُڑ بھی نہیں پائے تھے کہ گرفتار کر لیے گئے۔
3
हस्ती हमारी अपनी फ़ना पर दलील है याँ तक मिटे कि आप हम अपनी क़सम हुए
ہماری ہستی ہی ہماری اپنی فنا کا ثبوت ہے۔ ہم اس قدر مٹ گئے کہ ہم خود اپنی ہی قسم بن گئے۔
4
सख़्ती कशान-ए-इश्क़ की पूछे है क्या ख़बर वो लोग रफ़्ता रफ़्ता सरापा अलम हुए
عشق کی سختیاں سہنے والوں کا حال کیا پوچھتے ہو؟ وہ لوگ آہستہ آہستہ مکمل طور پر غم میں بدل گئے۔
5
तेरी वफ़ा से क्या हो तलाफ़ी कि दहर में तेरे सिवा भी हम पे बहुत से सितम हुए
تمہاری وفا سے کیا تلافی ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا میں تمہارے علاوہ بھی ہم پر بہت سے ستم ہوئے ہیں۔
6
लिखते रहे जुनूँ की हिकायात-ए-ख़ूँ-चकाँ हर-चंद इस में हाथ हमारे क़लम हुए
ہم جنون کی خون ٹپکاتی کہانیاں لکھتے رہے۔ اگرچہ اس عمل میں ہمارے ہاتھ قلم ہو گئے۔
7
अल्लाह रे तेरी तुंदी-ए-ख़ू जिस के बीम से अजज़ा-ए-नाला दिल में मिरे रिज़्क़-ए-हम हुए
اللہ رے تیرے مزاج کی وہ تیزی، جس کے خوف سے میرے دل میں میرے نالے کے اجزاء غم کا رزق بن گئے۔
8
अहल-ए-हवस की फ़त्ह है तर्क-ए-नबर्द-ए-इश्क़ जो पाँव उठ गए वही उन के अलम हुए
اہل ہوس کے لیے عشق کی جنگ چھوڑ دینا ہی ان کی فتح ہے۔ جو قدم (جنگ سے) ہٹ گئے، وہی ان کے پرچم بن گئے۔
9
नाले अदम में चंद हमारे सुपुर्द थे जो वाँ खिंच सके सो वो याँ के दम हुए
کچھ نوحے عدم میں ہمارے سپرد کیے گئے تھے۔ جو نوحے وہاں سے نہیں نکل سکے، وہ یہاں آ کر ختم ہو گئے تھے۔
10
छोड़ी 'असद' हम ने गदाई में दिल-लगी साइल हुए तो आशिक़-ए-अहल-ए-करम हुए
اسد، ہم نے فقیری میں بھی اپنے دل کی لگن نہیں چھوڑی۔ جب ہم سوالی بنے تو ہم سخی اور اہل کرم لوگوں کے عاشق ہو گئے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.