تکلف آئنۂ دو جہاں مدارا ہے — مرزا غالب

تکلف آئنۂ دو جہاں مدارا ہے سراغ یک نگہ قہر آشنا معلوم

“This mirror of two worlds, formality, is mere flattery's art,Yet of sudden, wrath-familiarity, a trace is known to start.”

— مرزا غالب

معنی

تکلف دونوں جہانوں کا وہ آئینہ ہے جو مدارا سے بھرا ہے۔ اچانک آنے والی، قہر سے آشنا ایک جھلک کا سراغ معلوم ہوتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر تکلّف، یعنی ہماری ظاہری بناوٹی عاجزی اور ادب کی بات کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جیسے دو جہانوں کی مدارا، یعنی ہماری سماجی اور روحانی دنیا کے سمجھوتوں کا آئینہ ہے۔ ہم کتنی بھی کوشش کر لیں اوپر سے سب کچھ سنوارنے کی، پر اندر کا اصل بھاو، وہ غصّے بھری یا گہری نگاہ کا سراغ، ہمیشہ کہیں نہ کہیں سے پھوٹ ہی پڑتا ہے۔

مشکل الفاظ

तकल्लुफ़— formality, ceremony, affectation, pretense
मदारा— politeness, civility, showing respect (sometimes feigned), flattery
यक-न-गह— suddenly, all at once, instantaneously
क़हर— wrath, rage, divine anger, punishment
क़हर-आश्ना— acquainted with wrath, familiar with rage

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.