“With eager eyes, I see dust rising in the distant direction,Behind the faint darkness, my light comes.”
بےتاب نگاہوں سے میں دور سَمت میں گرد اُڑتی دیکھتا ہوں، اور ہلکی تاریکی کے پردے سے میرا اجالا آتا ہے۔
یہ شعر امید بھری انتظار کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے، ہے نا؟ تصور کیجیے کوئی دور افق پر بےتاب نگاہوں سے دیکھ رہا ہے، جہاں بس ہلکی سی گرد اڑتی نظر آتی ہے – یہ ایک چھوٹا سا اشارہ ہے کہ کچھ، یا کوئی، بالآخر راستے میں ہے۔ یہ خوبصورتی سے بتاتا ہے کہ بھلے ہی کبھی چیزیں تھوڑی مدھم یا غیر یقینی لگیں، ایک 'ہلکی تاریکی' کی طرح، ٹھیک وہیں سے ہمارا 'اجالا' – ہماری خوشی، ہماری امید، ہمارا محبوب – باہر آنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ ایک دھیمی یاد دہانی ہے کہ اکثر روشنی تب آتی ہے جب ہم تقریباً ہار مان چکے ہوتے ہیں۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
