मेहेरबानी को मोहब्बत नहीं कहते ए दोस्त
आह अब मुझसे तेरी रंजिश बेजा भी नहीं
“Friend, they do not call favor 'love' or 'affection', Now, even your grievance is too much for me to bear.”
— فراق گورکھپوری
معنی
دوست، وہ مہربانی کو محبت نہیں کہتے۔ آہ، اب مجھ سے تیری رنجش بھیجنا بھی نہیں ہے۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ محض مہربانی کو محبت نہیں کہا جا سکتا.... اور جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے، تو محبوب کا چھوٹا سا ناراض ہونا بھی سَہنا ناممکن ہو جاتا ہے!
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
