غزل
सर में सौदा भी नहीं
सर में सौदा भी नहीं
یہ غزل محبت کے پیچیدہ اور متضاد جذبات کا بیان کرتی ہے، جہاں شاعر کہتا ہے کہ اس کے سر میں کوئی سودا نہیں اور دل میں کوئی تمنا بھی نہیں ہے۔ وہ محبت کے منطق پر بھی بھروسہ نہیں کرتا، اور نہ ہی دل کو کسی کے یگانوں یا بیگانوں میں گنتا ہے۔ آخر میں، شاعر کہتا ہے کہ مہربانی کو محبت نہیں کہتے، اور اس محفل میں نہ کوئی رنجش ہے اور نہ کوئی سخن آرائی۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
सर में सौदा भी नहीं, दिल में तमन्ना भी नहीं
लेकिन इस तर्क-ए-मोहब्बत का भरोसा भी नहीं
سر میں کوئی سودا نہیں، دل میں کوئی تمنا نہیں، مگر اس تَرکِ محبت پر بھروسہ بھی نہیں۔
2
दिल की गिनती न यगानों में, न बेगानों में
लेकिन उस जलवा-गाह-ए-नाज़ से उठता भी नहीं
دل کی گنتی نہ یگانوں میں، نہ بیگانوں میں۔ لیکن وہ اس جلوہ گاہِ ناز سے بھی نہیں اٹھتا۔
3
मेहेरबानी को मोहब्बत नहीं कहते ए दोस्त
आह अब मुझसे तेरी रंजिश बेजा भी नहीं
دوست، وہ مہربانی کو محبت نہیں کہتے۔ آہ، اب مجھ سے تیری رنجش بھیجنا بھی نہیں ہے۔
4
आह ये मजमा-ए-अहबाब, ये बज्म-ए-खामोश
आज महफिल में फिराक सुखन-आरा भी नहीं
آہ یہ مجمعِ احباب، یہ بزمِ خاموش; آج محفل میں فراق سُخن آرا بھی نہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
