“My beloved has arrived, like the full moon, come home, O joy of spring.Writing letter after letter, the pen meant for writing, writing so much, became worn out;”
میری محبوبہ پورے چاند کی طرح آ گئی ہے؛ اے بہار کی خوشی، گھر آؤ۔ خط پر خط لکھتے لکھتے، لکھنے والی قلم اتنا لکھنے سے گھس گئی ہے۔
آہا، یہ دوہا کتنا پیارا ہے! یہ انتظار کی ایک شاندار تصویر بناتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی آمد سے بالکل خوش ہے، اسے چمکتے ہوئے چودھویں کے چاند اور گھر میں بہار کی تمام خوشیاں اور تازگی لانے والا کہتا ہے۔ اور دوسرا حصہ اس انتظار کی شدت کو کس قدر عمدگی سے ظاہر کرتا ہے – ذرا سوچیں، اتنے سارے خط لکھے گئے، اتنے خیالات بھیجے گئے کہ جس سے لکھا گیا، وہ قلم ہی گھس گئی! یہ دوری کے باوجود رابطہ برقرار رکھنے میں کتنی محنت اور دلی تمنا لگتی ہے، اس کا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
