نہیں ہے جنس وفا کی تمہیں جو قدر نہ ہو — داغ دہلوی
“Though you place no value on this merchandise of fidelity, just wait and watch how many buyers line up to seek it.”
معنی
اگر آپ کو وفا کی کوئی قدر نہیں ہے تو نہ سہی، بس دیکھتے جائیے کہ اس کے کتنے خریدار سامنے آتے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے وفا اور محبت کو ایک بیش قیمت سودے یعنی 'جنسِ وفا' کے طور پر برتا ہے، جس کی قدر نہ جان کر محبوب نے اپنی ہی بے خبری کا ثبوت دیا ہے۔ یہاں گلے شکوے کے بجائے ایک باوقار خودداری اور مان کا خوبصورت رنگ جھلکتا ہے۔ عاشق بڑے یقین اور سلیقے سے یاد دلاتا ہے کہ اگر تم اس خلوص سے غافل ہو تو دنیا میں سچی وفا کے قدردانوں کی کمی نہیں، وقت آنے پر اس نایاب جذبے کے کئی طلب گار سامنے آئیں گے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
