دکھا رہی ہے تماشا فلک کی نیرنگی — داغ دہلوی
“The shifting heavens stage an ever-changing show; a brand-new trick at every turn—just keep on watching, lo!”
معنی
آسمان (قسمت) کا بدلتا ہوا رنگ ایک تماشا دکھا رہا ہے؛ ہر بار ایک نیا کرتب سامنے آتا ہے، بس دیکھتے جائیے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے گردشِ دوراں اور تقدیر کو ایک بازی گر سے تشبیہ دی ہے، جو ہر لمحہ زندگی کا ایک نیا تماشا رچا رہا ہے۔ فلک کا ہر بدلتا رنگ ایک نیا شعبدہ یعنی جادوگری ہے، جو انسان کو انگشت بدنداں کر دیتا ہے۔ شاعر کمال کی لاپرواہی اور دانائی سے کہتے ہیں کہ قسمت کے ان غیر متوقع موڑ پر گھبرانے کے بجائے، بس خاموشی سے اس تماشے کا لطف لیتے جانا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
