نہیں ہیں جرم محبت میں سب کے سب ملزم — داغ دہلوی
“Not all stand guilty of the crime of love; / Forgive the fault, just watch the sinner pass.”
معنی
محبت کے جرم میں ہر شخص ملزم نہیں ہوتا؛ بس غلطی معاف کیجیے اور اس گناہ گار کو دیکھتے جائیے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے محبت کو جرم سمجھے جانے کے روایتی انداز پر بڑی پیاری اور معنی خیز شوخی کے ساتھ بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عشق کے اس مقدمے میں ہر کوئی یکساں گنہگار نہیں ہوتا، اس لیے سزا کا فیصلہ کرنے سے پہلے ذرا اس نام نہاد خطا وار کی معصومیت اور بے بسی کو تو دیکھیے۔ یہ شعر دراصل دنیاوی فیصلوں کو ایک طرف رکھ کر محبت کی نزاکت اور اس کے سحر کو کھلے دل سے دیکھنے کی دعوت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
