رقیب برسر پرخاش ہم سے ہوتا ہے — داغ دہلوی
“The rival is bent on picking a fight with me; this needless quarrel will only grow, just wait and see.”
معنی
رقیب ہم سے لڑائی جھگڑے پر تلا ہوا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ فضول تکرار اور بڑھ جائے گی۔
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنے رقیب کی بے جا ضد اور حسد پر دھیمے لہجے میں طنز کر رہا ہے۔ وہ گویا مسکرا کر اپنے سننے والے سے کہہ رہا ہے کہ حریف بلاوجہ فساد پر تلا ہوا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ لاحاصل تکرار بڑھتی چلی جائے گی۔ اس میں ایک ایسی بے نیاز اور پُرسکون دانائی نظر آتی ہے جو رقیب کی بےچینی کو ایک فضول تماشے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
