شب وصال عدو کی یہی نشانی ہے — داغ دہلوی
“This is the token of a night of union with the rival; behold the imprint of a kiss upon your cheek as you go.”
معنی
رقیب کے ساتھ وصال کی رات کی نشانی یہی ہے، جاتے ہوئے اپنے گال پر بوسے کا نشان دیکھتے جاؤ۔
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کی بے وفائی پر گہرے دکھ اور چبھتے ہوئے طنز کے ساتھ شکوہ کر رہا ہے۔ وہ محبوب کے رخسار پر بوسے کا نشان دیکھ کر کہتا ہے کہ رقیب کے ساتھ گزاری گئی وصل کی رات کا یہ کھلا ثبوت سب راز فاش کر رہا ہے۔ اس تذکرے میں صرف غصہ ہی نہیں بلکہ دل ٹوٹنے کی وہ شدید تکلیف ہے جہاں سچائی کا سامنا کرنا ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
