نار نمرود کو کیا گلزار — داغ دہلوی

نار نمرود کو کیا گلزار دوست کو یوں بچا دیا تو نے

“You turned the fire of Nimrod into a blooming garden; in such a wondrous way did You deliver Your friend.”

— داغ دہلوی

معنی

تو نے نمرود کی آگ کو گلزار بنا دیا اور اس طرح اپنے دوست (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کو بچا لیا۔

تشریح

یہ شعر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کی خوبصورت تلمیح پیش کرتا ہے جنہیں خدا کا دوست یعنی 'خلیل اللہ' کہا جاتا ہے۔ جب ظالم نمرود نے انہیں دہکتے ہوئے الاؤ میں پھینکا، تو اللہ کے حکم سے وہ خوفناک آگ پھولوں کی وادی اور ٹھنڈے گلزار میں بدل گئی۔ شاعر دل کو تسلی دیتا ہے کہ اگر رب پر سچا بھروسا ہو تو بڑی سے بڑی مصیبت اور آزمائش بھی رحمت بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.