داغؔ کو کون دینے والا تھا — داغ دہلوی

داغؔ کو کون دینے والا تھا جو دیا اے خدا دیا تو نے

“Who was there to bestow anything upon 'Daagh'? Whatever was granted, O God, was given by You.”

— داغ دہلوی

معنی

داغ کو کچھ دینے والا کوئی نہیں تھا، اے خدا مجھے جو کچھ بھی ملا وہ صرف تو نے ہی عطا کیا۔

تشریح

اس شعر میں داغؔ دہلوی بڑی عاجزی اور سادگی کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں شکر گزاری کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس دنیا میں کسی کی یہ بساط ہی نہ تھی جو انہیں کچھ عطا کر سکتا، انہیں جو بھی عزت، ہنر اور نام نصیب ہوا وہ سب محض ربِ کریم کا فضل اور عنایت ہے۔ یہ شعر دل کو غرور سے پاک کر کے تشکر، انکساری اور کامل توکل کے جذبے سے سرشار کر دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev20 / 20