سمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہد — داغ دہلوی

سمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہد مگر رند اس کو ولی جانتے ہیں

“You deem Dagh a mere libertine, O ascetic devout, yet the libertines revere him as a saint beyond doubt.”

— داغ دہلوی

معنی

اے زاہد، تو داغ کو محض ایک رند اور گناہ گار سمجھتا ہے، مگر رند خود اسے ایک ولی اور بزرگ مانتے ہیں۔

تشریح

داغؔ اس شعر میں روایتی زاہد کی ظاہر پرستی پر بڑا خوبصورت اور برمحل طنز کرتے ہیں۔ زاہد اپنی تنگ نظری کے باعث شاعر کو محض ایک رند یا گناہ گار گردانتا ہے، لیکن سچی تڑپ رکھنے والے مے کش داغؔ کے اندر کی پاکیزگی کو پہچان کر انہیں ولی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ شعر بڑی خوبصورتی سے یہ راز کھولتا ہے کہ اصل عرفان اور بزرگی ظاہر کے کھوکھلے پن میں نہیں، بلکہ دل کے سچے خلوص اور عشق کی بے خودی میں پوشیدہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10