“The world may know the cruelties the world imparts, but only my soul knows how you have tormented hearts.”
دنیا کے جو ستم ہیں وہ دنیا ہی جانے، لیکن تم نے دلوں کو اس قدر ستایا ہے کہ اس کا حال صرف میرا دل ہی جانتا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے زمانے کی سختیوں اور محبوب کے دیے ہوئے دکھوں کا تقابل کمال سادگی سے کیا ہے۔ دنیا کے ستم تو سب پر عیاں ہوتے ہیں اور زمانہ انہیں خوب سمجھتا ہے، مگر عشق میں دل پر جو گزری ہے وہ اس قدر نجی اور گہرا درد ہے کہ اس کیفیت اور تڑپ کو صرف انسان کا باطن ہی جانتا ہے۔ یہ محبوب کی بے اعتنائی پر ایک گہرا اور دل پذیر شکوہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
