لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

“Such pleasures have I tasted in love, only my heart knows; such sorrows too have I endured, only my heart knows.”

— داغ دہلوی
معنی

میں نے عشق میں ایسے لطف پائے ہیں جنہیں صرف میرا دل جانتا ہے، اور ایسے دکھ بھی اٹھائے ہیں جنہیں صرف میرا دل ہی جانتا ہے۔

تشریح

میر تقی میرؔ نے اس شعر میں عشق کے دو متضاد اور بے پایاں پہلوؤں یعنی بے پناہ لذت اور دل سوز رنج کو کمال سادگی سے سمیٹا ہے۔ 'جی جانتا ہے' کا انداز یہ واضح کرتا ہے کہ محبت کے نشیب و فراز، اس کا سرور اور اس کے زخم الفاظ کے دائرے میں سما ہی نہیں سکتے۔ یہ ایک ایسا نجی اور گہرا تجربہ ہے جس کے لطف اور کرب کی وسعت کو صرف وہی دل سمجھ سکتا ہے جس پر یہ سب بیتی ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.