“For two days now that playful grace has graced my home as guest; how utterly has solitude's own house been laid to waste!”
پچھلے دو دنوں سے وہ شوخ محبوب میرے گھر مہمان بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے آج کل میری بے کسی اور تنہائی کا گھر پوری طرح ویران ہو گیا ہے۔
یہاں شاعر نے کتنے خوبصورت اور شوخ انداز میں کمال کر دکھایا ہے کہ جب سے محبوب دو دن کے لیے مہمان بنا ہے، خود تنہائی اور بے کسی کا گھر اجڑ گیا ہے۔ عام طور پر عشق عاشق کو برباد کرتا ہے، مگر محبوب کے قدم پڑتے ہی برسوں سے ڈیرہ جمائے اداسی اور بے بسی خود بے گھر ہو کر رہ گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
