“What deep regret was mine from bargaining away my heart to them; for where remains the value of a thing once it has become so cheap?”
ان سے اپنے دل کا سودا کر کے مجھے بہت پچھتاوا ہوا، کیونکہ جو چیز سستی اور عام ہو جائے پھر اس کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی۔
اس شعر میں شاعر محبت کو بازار کے سودے کا استعارہ بنا کر دل کو اتنی آسانی سے سونپ دینے کے پچھتاوے کا اظہار کر رہے ہیں۔ انسانی فطرت کا یہ تلخ المیہ ہے کہ جو چیز بے مول اور وافر مل جائے، لوگ اس کی وقعت بھول جاتے ہیں۔ شاعر کا دکھ یہ ہے کہ محبوب پر بے دریغ دل لٹا کر انہوں نے انجانے میں اپنے ہی جذبات کو سستا اور بے قدر کر دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
