کھڑے ہوں زیر طوبیٰ وہ نہ دم لینے کو دم بھر بھی جو حسرت مند تیرے سایۂ دامن کے بیٹھے ہیں

“They would not pause even for a breath beneath the celestial Tūbā tree, who sit yearning only for the sheltering shadow of your hem.”

— داغ دہلوی
معنی

جو لوگ آپ کے دامن کے سائے کی تمنا لیے بیٹھے ہیں، وہ جنت کے درخت طوبیٰ کے نیچے دم بھر آرام کرنے کے لیے بھی نہیں رکیں گے۔

تشریح

اس خوبصورت شعر میں شاعر نے عشق کی اس منزل کو بیان کیا ہے جہاں محبوب کی قربت کے آگے جنت کی نعمتیں بھی بے معنی ہو جاتی ہیں۔ طوبیٰ جنت کا وہ مقدس درخت ہے جس کا سایہ سب سے پُرسکون مانا جاتا ہے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ جنہیں تیرے دامن کی چھاؤں کی تمنا ہے، وہ طوبیٰ کے سائے میں دم بھر بھی رکنا گوارا نہیں کریں گے۔ سچے عاشق کے لیے اس کے محبوب کا دامن اور اس کی پناہ ہی اصل جنت اور راحت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.