“The weary wandering in search of the goal can no longer be borne; with girdles loosened, we sit resigned along the highwayman's path.”
منزل کی تلاش میں بھٹکنے کی تکالیف اب ہم سے برداشت نہیں ہو سکتیں، اس لیے ہم تھک ہار کر لٹیرے کے راستے ہی میں بیٹھ گئے ہیں۔
یہ شعر تلاش اور جستجو کی اس آخری حد کو بیان کرتا ہے جہاں تھکن امید پر غالب آ جاتی ہے۔ منزل کے تعاقب میں دربدر پھرتے پھرتے جب مسافر کے حوصلے جواب دے جائیں، تو وہ لٹنے کے خوف سے بے نیاز ہو کر رہزن ہی کی راہ میں کمر کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس میں ایک تلخ سچائی چھپی ہے کہ جب کھونے کے لیے کچھ نہ بچے، تو خطرہ اور بربادی بھی اپنے اندر ایک عجیب سا سکون لے آتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
