اثر ہے جذب الفت میں تو کھنچ کر آ ہی جائیں گے ہمیں پروا نہیں ہم سے اگر وہ تن کے بیٹھے ہیں

“If love's true pull holds any power, they will surely be drawn to me; I care not in the least if they sit aloof with haughty pride.”

— داغ دہلوی
معنی

اگر محبت کی کشش میں اثر ہے تو وہ کھنچ کر خود ہی آ جائیں گے، ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں اگر وہ ہم سے اکڑ کر یا ناراض ہو کر بیٹھے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں عاشق کو اپنے پیار کی مقناطیسی کشش یعنی 'جذبِ الفت' پر کامل یقین ہے۔ محبوب چاہے کتنا ہی غرور، بے رخی یا اکڑ کے ساتھ فاصلہ بنا کر بیٹھا رہے، عاشق کو اس کی ذرا پروا نہیں۔ اسے پختہ بھروسا ہے کہ اگر دل کے خلوص میں اثر ہے، تو وہ کشش بالآخر محبوب کی ساری انا توڑ کر اسے خود اپنی طرف کھینچ لائے گی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.