“Someone's doom draws near tonight, someone's life shall slip away; Waiting in ambush on the roof, all dressed up they sit today.”
کسی پر مصیبت آنے والی ہے اور کسی کی جان جانے والی ہے، کیونکہ وہ کسی کی تاک میں چھت پر خوب بن سنور کر بیٹھے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی شوخ اداؤں اور قیامت خیز سج دھج کا ذکر بڑے دلکش اور پرمزاح انداز میں کیا ہے۔ محبوب بن سنور کر کوٹھے کی چھت پر یوں آن بیٹھا ہے جیسے کسی عاشق کا دل شکار کرنے کی تاک میں ہو۔ شاعر محبت بھرے خوف سے خبردار کر رہا ہے کہ آج رات کسی نہ کسی کی شامت ضرور آئے گی، کیونکہ اس قاتلانہ حسن کی تاب لانا کسی کمزور دل کے بس کی بات نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
