“Their rising and sitting in this gathering will surely show its hue; they sit smoldering like a blazing ember, and will rise as the Day of Doom.”
محفل میں ان کا یہ اٹھنا بیٹھنا ضرور کوئی رنگ دکھائے گا۔ وہ اس وقت دہکتے ہوئے انگارے کی طرح بیٹھے ہیں اور جب اٹھیں گے تو قیامت بن کر اٹھیں گے۔
شاعر محبوب کے حسن اور ناز و انداز کی شدت کو ایک سلگتے ہوئے انگارے یعنی ’بھبوکا‘ سے تشبیہ دے کر محفل کا سحر انگیز نقشہ کھینچتا ہے۔ وہ اس وقت جس پروقار خاموشی اور جلال کے ساتھ بیٹھے ہیں، اس سے عیاں ہے کہ یہ سکوت کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ شاعر کو یقین ہے کہ ان کا یہ انداز محفل میں رنگ جما کر رہے گا اور جب وہ رخصت کے لیے اٹھیں گے تو ان کا جانا کسی قیامت سے کم نہ ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
