یہ جوش گریہ تو دیکھو کہ جب فرقت میں رویا ہوں در و دیوار اک پل میں مرے مدفن کے بیٹھے ہیں

“Behold this surge of weeping: whenever in separation I have cried, the very doors and walls of my tomb collapsed in a single moment.”

— داغ دہلوی
معنی

میرے رونے کی شدت تو دیکھیے کہ جب بھی میں جدائی میں رویا ہوں، میری قبر کے در و دیوار ایک ہی لمحے میں گر کر بیٹھ گئے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے جدائی کے صدمے اور آنسوؤں کے طوفان کو کمال کے مبالغے کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب سے بچھڑنے کا غم موت کے بعد بھی ماند نہیں پڑا؛ قبر کے سناٹے میں جب روئے تو گریہ کا سیلاب اس قدر تند تھا کہ پلک جھپکتے ہی مزار کی بنیادیں ہل گئیں اور در و دیوار بیٹھ گئے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ عشق کی بے قراری موت کی آغوش میں بھی انسان کو سکون کا سانس نہیں لینے دیتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.