“The preacher too, like me, felt tempted by love's call, / Yet seeing its calamities, held back from the fall.”
ناصح کا دل بھی ہماری طرح محبت کی طرف مائل ہوا تھا، لیکن عشق کی مصیبتیں اور بربادیاں دیکھ دیکھ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔
اس شعر میں شاعر نے ناصح پر ایک بڑا خوبصورت اور گہرا طنز کیا ہے۔ دوسروں کو عقل اور پرہیز کا درس دینے والے ناصح کا دل بھی دراصل محبت کی راہ پر چلنے کو للچایا تھا۔ مگر جب اس نے عشق کی وادی میں قدم رکھنے سے پہلے اس کی تباہیاں، آفتیں اور آزمائشیں دیکھیں تو اس کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔ عاشق اور ناصح میں بس یہی فرق ہے کہ عاشق برباد ہو کر بھی مسکراتا ہے، جبکہ ناصح خوف کے مارے کنارے پر ہی کھڑا رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
