محشر میں جائے شکوہ کیا شکر یار کا جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا

“On Judgment Day, in place of grievance, I offered thanks unto my love; that which I ought to have forgotten was all that lingered in my mind.”

— داغ دہلوی
معنی

قیامت کے دن شکایت کرنے کی جگہ میں نے اپنے محبوب کا شکر ادا کیا، کیونکہ جو بات مجھے بھول جانی چاہیے تھی، مجھے وہی یاد رہ گئی۔

تشریح

محشر کے دن جہاں ہر ستم کا حساب ہونا تھا اور عاشق کو محبوب کی بے رخی کا شکوہ کرنا چاہیے تھا، وہاں وہ گلے کے بجائے شکر ادا کر بیٹھتا ہے۔ دل کی معصومیت اور بے لوث محبت دیکھیے کہ جن دکھوں اور رنجشوں کو یاد رکھنا تھا وہ سب مٹ گئیں اور صرف محبت کی مٹھاس باقی رہ گئی۔ یہ شعر سچے عشق کی اس سرشت کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کے دیے ہوئے زخم بھی بالآخر احسان ہی معلوم ہوتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.