“The idol's intoxicating glance has ruined a thousand homes, it is true; only the Kaaba remained thriving, and that but for a day or two.”
محبوب کی نگاہوں نے یوں تو ہزاروں گھر برباد کر دیے، صرف ایک کعبہ ہی تھا جو چند دنوں کے لیے آباد رہ سکا۔
اس شعر میں شاعر نے شوخ اور روایتی انداز میں محبوب کی فتنہ ساماں نگاہوں کا اثر بیان کیا ہے، جس نے دنیا بھر کے ہوش و حواس اور گھر اجاڑ دیے۔ محبوب کے جلوؤں کے سامنے کعبہ بھی، جو تقویٰ اور زہد کا استعارہ ہے، اس دلربا نظر کے جادو سے محض چند روز ہی سلامت رہ سکا۔ دراصل یہ عشق کی اس عالمگیر طاقت کی تصویر کشی ہے جو عقل، ایمان اور ضبطِ نفس سب پر بھاری پڑ جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
