“The fetters of love kept me helpless and bound; yet amidst a hundred captivities, free I remained.”
عشق کی بندشوں نے مجھے بے بس اور لاچار بنائے رکھا، مگر اس کے باوجود میں سینکڑوں قیدوں کے درمیان بھی آزاد ہی رہا۔
اس شعر میں عشق کا ایک بڑا دلکش تضاد بیان ہوا ہے کہ محبت کی زنجیروں نے بظاہر عاشق کو بے بس کر دیا، مگر روح کو ایک انوکھی رہائی بخش دی۔ جب انسان عشق میں فنا ہو کر اپنی انا کو چھوڑ دیتا ہے، تو دنیا کے سو طرح کے قید و بند بھی اس کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یوں محبوب کی غلامی اور عشق کی پابندیاں دراصل باطنی آزادی اور خود مختاری کا سب سے بڑا استعارہ بن جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
