“Beholding your face, the soul of creation is drawn away; clutching his heart time and again, even the master Bihzad was left undone.”
تمہارے چہرے کو دیکھ کر تمام مخلوق کی جان نکل جاتی ہے، اور عظیم مصور بہزاد بھی اپنا دل تھام کر حیران و لاچار رہ گیا۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے بے مثال حسن کا نقشہ کمال خوبصورتی سے کھینچا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کے رخِ انور کو دیکھ کر خلقِ خدا کی جان پر بن آتی ہے، اور بہزاد جیسا عظیم مصور بھی اس لاجواب حسن کے سامنے بے بس ہو کر بس اپنا دل تھامے رہ جاتا ہے۔ یہ اس حسن کا بیان ہے جو فن اور مصوری کی ہر حد سے بالاتر ہے، جسے کوئی بھی قلم یا رنگ قید کرنے کی تاب نہیں رکھتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
