“O Dagh, restrained by love, the heart dissolved within in pain; alas, the yearning to weep and wail unvoiced did still remain.”
اے داغ، عشق کے درد کو ضبط کرنے کی وجہ سے دل اندر ہی اندر گھل گیا، اور افسوس کہ نالہ و فریاد کرنے کی حسرت دل ہی میں رہ گئی۔
داغؔ نے یہاں محبت میں خاموش جلن اور ضبط کی ایک دل خراش تصویر کھینچی ہے۔ محبت کا بھرم رکھنے کے لیے عاشق نے ہر ستم چپ چاپ سہا اور دل اندر ہی اندر گھل کر ختم ہو گیا، مگر لبوں پر آہ نہ آنے دی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دل تو خاموشی کے اس روگ میں تباہ ہو گیا، لیکن جی بھر کر رونے اور فریاد کرنے کی ایک معصوم سی حسرت ہمیشہ کے لیے سینے میں دبی رہ گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
