“Gone are the days when in my chest there lingered an ache, a scratch; where is the heart now? Only the memory of its trace remains.”
وہ دن گزر گئے جب میرے سینے میں کوئی خلش یا درد تھا، اب دل کہاں رہا ہے، بس دل کا ایک نشان ہی یاد رہ گیا ہے۔
اس شعر میں رنج و الم کی اس انتہا کی عکاسی ہے جہاں تڑپتے تڑپتے انسان بالکل بے حس ہو جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کبھی سینے میں درد کی ایک ہلکی سی خلش یا کسک تھی، جو دل کے زندہ ہونے کا احساس دلاتی تھی۔ مگر غم کی شدت نے خود دل کے وجود کو ہی مٹا ڈالا، اور اب سینے میں صرف ایک ویران یاد اور اس کا دھندلا سا نشان باقی رہ گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
