“Better to swallow poison and die in this separation; who has the patience to wait for death?”
جدائی کے دکھ میں زہر کھا کر مر جانا بہتر ہے، بھلا موت کا انتظار کون کرے؟
یہ شعر ہجر کے اس جاں لیوا کرب کو بیان کرتا ہے جہاں دل کا صبر بالکل جواب دے جاتا ہے۔ عاشق کے لیے جدائی کا غم خود ایک سست رفتار زہر بن چکا ہے، اس لیے وہ قدرتی موت کی طویل اذیت جھیلنے کے بجائے فوراً قصہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہ بے صبری دراصل محبوب سے دوری کی اس ناقابلِ برداشت گھٹن کی عکاسی کرتی ہے جہاں زندگی کا ہر سانس موت سے زیادہ بھاری معلوم ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
