“When you yourself are the affliction of the age, who is there left to complain against fate?”
جب تم خود ہی اس زمانے کی مصیبت ہو، تو پھر زمانے کا شکوہ اور گلہ کون کرے۔
عام طور پر انسان اپنے دکھوں اور زخموں کا گلہ زمانے کی بے رخی اور قسمت سے کرتا ہے۔ مگر شاعر یہاں کمال نزاکت اور محبت بھری چوٹ کے ساتھ محبوب سے کہتا ہے کہ جب اس دور کی سب سے بڑی آفت خود تم بن چکے ہو، تو پھر دنیا سے کیا شکایت کی جائے۔ اس شعر میں شکوہ بھی ہے اور محبوب کے سحر انگیز حسن کا اقرار بھی، جہاں زمانے کے سارے غم محبوب کی اداؤں کے آگے ماند پڑ جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
