ہو جو اس چشم مست سے بے خود پھر اسے ہوشیار کون کرے

“One rendered senseless by those intoxicating eyes, / who could ever restore him to his senses again?”

— داغ دہلوی
معنی

جو شخص ان نشیلی آنکھوں کی وجہ سے بے خود ہو جائے، پھر بھلا اسے ہوش میں کون لا سکتا ہے؟

تشریح

اس شعر میں محبوب کی نشیلی آنکھوں یعنی 'چشمِ مست' کے گہرے سحر کو موضوع بنایا گیا ہے، جس کا خمار کسی بھی مے سے زیادہ تیز ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ جو دل ان مدہوش نگاہوں کے تیر سے بے خود ہو جائے، اسے دنیا کا کوئی ہوش یا فہم واپس نہیں لا سکتا۔ یہ بے خودی دراصل عشق کا وہ پرسکون عالم ہے جس سے کوئی عاشق کبھی بیدار ہونا ہی نہیں چاہتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.