“May this Face (of the Holy Prophet (P.B.U.H)) remain before my eyes, In my last moments (of life) and on the Resurrection Day! Then (also) in my grave, and at the time of crossing the (razor-sharp) Bridge (on the Judgment Day as a test to separate the virtuous ones from the sinners); Only then shall the fake ones become pure (in the sight of Allah).”
شاعر کا یہ آرزو ہے کہ میرے آخری لمحات میں، قیامت کے دن، میری قبر میں اور اس تیز دھار پل (جو نیک اور برے کو الگ کرنے کے لیے ہے) کو عبور کرتے وقت بھی، حضور اکرم (ص.ب.ع.) کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے رہے؛ تبھی تک جو منافق ہیں، اللہ کی نظر میں پاک ہو جائیں گے۔
یہ شعر ایک گہرا اعترافِ محبت ہے، جس میں شاعر نبي کے چہرے کی یاد ہمیشہ ساتھ رہنے کی دعا کر رہے ہیں۔ یہ ایک مکمل توکل ہے، جو زندگی کے ہر مرحلے اور قیامت کے दिन تک اس نور کا ساتھی بننے کی تمنا کرتا ہے۔
