“Your love has brought me infamy across the world; why then would you not hear tell of me from an entire world?”
تمہارے عشق نے ہمیں دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے، تو پھر تم ساری دنیا کی زبانی ہمارا تذکرہ کیوں نہیں سنو گے۔
شاعر نے اس شعر میں محبت کی رسوائی کو ایک حسین فخر اور دھیمے سے شکوے کا رنگ دیا ہے۔ وہ محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ آپ کے عشق نے ہمیں سارے جہاں میں تماشا اور چرچوں میں عام کر دیا ہے، تو پھر بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا بھر کی زبانوں سے آپ کو میرا ہی ذکر سنائی نہ دے! اس ملامت کے پیچھے عشق کی وہ سچی جیت جھلکتی ہے جس نے عاشق کے نام کو زمانے بھر کا فسانہ بنا کر خود محبوب تک پہنچا دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
