“When death arrives, it cannot be averted; and if it has not, what cause is there to fear?”
اگر موت آ جائے تو وہ ٹل نہیں سکتی، اور جب تک نہیں آئی تب تک ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔
یہ شعر زندگی اور موت کے اٹل فلسفے کو بڑی خوبصورت سادگی اور بے باکی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب موت کا وقت آ پہنچے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور جب تک وہ نہیں آئی تو پھر اس کے خوف میں گھلنے کا کیا فائدہ؟ دراصل یہ شعر ہمیں مستقبل کے انجانے اندیشوں اور فکرمندیوں سے آزاد ہو کر آج کے ہر لمحے کو پوری خودداری اور سکون سے جینے کا سبق دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
