“Lord, oh Lord! The towering pride of those beloved idols; if this is not divinity itself, then what else is it?”
یا اللہ، ان محبوبوں (بتوں) کا غرور تو دیکھو! اگر ان کا یہ انداز خدائی نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟
اردو شاعری میں سنگ دل اور حسین محبوب کو گِلے اور محبت کے ملے جلے احساس کے ساتھ 'بت' کہا جاتا ہے۔ شاعر یہاں اپنے محبوب کے بے پناہ ناز اور اس کی دل شکن بے نیازی پر حیران ہو کر کہتا ہے کہ اگر دلوں پر یوں بلا شرکتِ غیرے راج کرنا خدائی نہیں تو پھر اور کیا ہے! یہ شعر دراصل محبوب کے حسن اور اس کے شکوہ کے سامنے عاشق کی عاجزانہ حیرت اور تسلیم و رضا کا ایک نہایت دلکش بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
