ہو ملاقات تو صفائی سے اور صفائی نہیں تو پھر کیا ہے

“If we must meet, let it be with an open and candid heart; for if there is no sincerity, what purpose does a meeting impart?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اگر ملاقات ہو تو دل کی سچائی اور صفائی کے ساتھ ہونی چاہیے؛ اور اگر دل میں صفائی ہی نہ ہو تو پھر ایسی ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔

تشریح

یہ شعر رشتوں میں محض رسمی ملاقات کے بجائے دلی خلوص اور بے تکلف سچائی کو اصل بنیاد قرار دیتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ ملنا تب ہی خوشگوار ہے جب دل ہر قسم کی کدورت، بناوٹ اور شکوک سے بالکل صاف ہوں، ورنہ ایسے ملنے کا کیا حاصل؟ باطن میں اگر منافقت یا دوری باقی رہے، تو روبرو بیٹھنا بھی محض ایک بے جان رسم سے زیادہ کچھ نہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.