دل ربا کو ہے دل ربائی شرط دل ربائی نہیں تو پھر کیا ہے

“For a stealer of hearts, ravishing the heart is an essential art; if there be no stealing of hearts, what then is a stealer of heart?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

کسی دلربا کے لیے دل کو موہ لینا لازمی شرط ہے؛ اگر وہ دل ہی نہ چرا سکے تو پھر اس کے دلربا ہونے کا کیا مطلب ہے۔

تشریح

یہ شعر محبوب کے ساتھ ایک نہایت دلکش اور شوخ مکالمے کی مانند ہے جس میں پیار بھرا شکوہ پوشیدہ ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ اگر آپ کا وصف ہی 'دل ربا' یعنی دل کو چرا لینے والا ہے، تو دلوں کو موہ لینا اور اپنا اسیر بنانا آپ کی فطرت ہونی چاہیے۔ اگر حسن میں وہ کشش، جادو اور دل نوازی ہی باقی نہ رہے، تو پھر محبوب کہلانے کا کیا حاصل رہ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.