“If access to that presence is denied, what else can it be? / If this is not separation, what else can it be?”
اگر وہاں تک رسائی ہی ممکن نہیں تو پھر یہ کیا ہے، اور اگر یہ کیفیت جدائی نہیں ہے تو پھر اسے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
یہ شعر دل کی اس خاموش بے بسی کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کے در تک پہنچنے کی تمام راہیں بند ہو جاتی ہیں۔ فاصلہ صرف میلوں کا نہیں ہوتا، بلکہ جب محبوب تک رسائی ہی ممکن نہ رہے تو وہی درحقیقت اصل ہجر ہے۔ شاعر سوالیہ انداز میں ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ اگر قربت سے یہ محرومی جدائی نہیں، تو پھر فراق اور کس بلا کا نام ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
