“If not from the thought of your radiant teeth it drew its lustrous grace, how then became a priceless pearl the tear upon my face?”
اگر بہنے والا آنسو تمہارے دانتوں کے خیال کی وجہ سے چمکدار نہیں ہوا تھا، تو پھر وہ اتنا قیمتی موتی کیسے بن گیا؟
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے موتی جیسے چمکدار دانتوں اور اپنے بہتے ہوئے آنسوؤں کو ایک نازک رشتے میں پرویا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر میرے آنسو میں تمہارے روشن دانتوں کے خیال کی آب و تاب نہیں تھی، تو پانی کا یہ قطرہ انمول موتی کی صورت کیسے ڈھل گیا؟ یہاں لفظ 'آب دار' کی خوبصورتی دیکھتے ہی بنتی ہے، جس کا مطلب پانی والا بھی ہے اور موتی کی چمک دمک بھی۔ سچی چاہت کا سحر یہی ہے کہ محبوب کی یاد سے مل کر ہجر کا بہتا ہوا آنسو بھی ایک گراں قدر گوہر بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
