“Those who claimed peerless singularity stand bewildered like a mirror, wondering how another could ever have come to be.”
جنہیں اپنی یکتائی اور بے مثل ہونے کا دعویٰ تھا، وہ آئینے کی مانند حیران ہیں کہ دوسرا کیسے پیدا ہو گیا۔
یہ شعر خود پسندی اور غرور پر ایک نہایت لطیف اور دلکش چوٹ ہے، جہاں انسان خود کو دنیا میں یکتا اور لاثانی سمجھ بیٹھتا ہے۔ شاعر نے آئینے کا خوبصورت استعارہ برتا ہے کہ جیسے آئینہ اپنے سامنے عکس دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے، بالکل اسی طرح اپنی مثال آپ سمجھنے والے بھی کسی دوسرے کے وجود پر دنگ ہیں۔ یہ دراصل انسانی انا کے ٹوٹنے کا وہ لمحہ ہے جب اپنی بے مثل ہونے کا بھرم پل بھر میں بکھر جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
