“What wonder if humility should clear the dust that clouds the heart? / Look at the mirror, and see how it was polished bright by dust.”
اگر عاجزی دل کے غبار اور کدورت کو دور کر دے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ مٹی ہی سے آئینہ صاف اور چمکدار ہوتا ہے۔
شاعر نے اس شعر میں ایک قدیم روایت کی بڑی پیاری مثال دی ہے، جہاں دھات کے آئینوں کو خاک یا راکھ سے مانجھ کر چمکایا جاتا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر عاجزی اور خاکساری دل سے کدورت اور انا کا غبار دور کر دے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ جس طرح مٹی سے رگڑ کھانے کے بعد آئینہ شفاف ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان جب غرور مٹا کر خاک ہو جائے تو اس کا دل روشن اور اجلا ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
