“Full of pride, steeped in conceit, cruel and relentless in tyranny; full of deceit, rich in betrayal, cunning and crafty—such are you.”
آپ غرور اور تکبر سے بھرے ہوئے، ظلم و ستم ڈھانے والے، اور فریب، دھوکے، مکاری اور فنکاری سے لبریز انسان ہیں۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کے ستم اور فریب کی ایک پرتاثیر فہرست گنواتا ہے، جہاں ہر صفت کے ساتھ لفظ 'پُر' جوڑ کر اس کے جور و جفا کی شدت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ غرور، تکبر، دغا اور عیاری کے اس تسلسل کو شاعر نے اس روانی سے باندھا ہے کہ آخری مصرعے کا 'آپ ہیں' تیر کی طرح دل میں ترازو ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک تیکھا شکوہ ہے، مگر اس تلخی کے نیچے عاشق کی بے بسی اور محبوب کی بے مثال ستم گری پر ایک حیران کن وارفتگی بھی چھپی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
